تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی | ابھی کچھ دنوں قبل آپ نے اس خبر کو ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے پورے زور شور سے سناکہ ہندوستان کے ایک گاوں میں پانی سے کھیلتے بچے کو مگرمچھ نے نگل لیا اس خبر نے بہت سے دلوں کو دہلا دیا۔ خبر یہ بھی تھی کہ بعد میں گاؤں والوں نے مگرمچھ کو دھر دبوچا اور جب اسکا شکم چیرا گیا تو اس میں بچے کے باقیات نکلے۔
یہ پورا واقعہ بہت دردناک تھا لیکن اس واقعے نے ایک اور سوال کو جنم دیا:
کیا ہمارے معاشرے میں صرف دریا، تالاب اور جھیلوں میں ہی مگرمچھ ہوتے ہیں؟
یا پھرہمارے درمیان بھی کچھ مگرمچھ ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ ان کے دانت دکھائی نہیں دیتے، ان کے جبڑے کھلے ہوئے نظر نہیں آتے، ان کی آنکھوں می اترا خون نظر نہیں آتا وہ مذہبی لباس پہنتے ہیں، مقدس ناموں کی چھاؤں میں بیٹھتے ہیں، دینی مراکز، مدارس، اداروں، وقف کی املاک اور مذہبی دفاتر کے آس پاس منڈلاتے ہیں؛ اس لیے انہیں دیکھ کر خطرے کا احساس نہیں ہوتا۔
مگر شکار سامنے آتے ہی وہ بھی جھپٹتے ہیں۔
یہ ہیں دینی مراکز کے مگرمچھ!
یہ استعارہ کسی عالمِ دین، مدرس، مرجع، دفتر یا دینی ادارے کے ہر فرد کے لیے نہیں، تمام مخلص خدمت گزار اس سے مبرا ہیں یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو دین کے نام پر حاصل ہونے والے اعتماد، عطیات، وقف اور امانت کو اپنی ذاتی مصلحت، منفعت یا اقتدار کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
ان کی سب سے خطرناک خصوصیت یہی ہے کہ یہ دینی مراکز کے تالاب کے پانی میں خاموش پڑے رہتے ہیں۔
بظاہر بے ضرر۔
بظاہر مظلوم۔
بظاہر خدمت گزار۔
مگر جیسے ہی کسی مجبور انسان کی مدد کے لیے رقم آتی ہے، کسی یتیم کی ضرورت سامنے آتی ہے، کسی بیمار کے علاج کے لیے چندہ جمع ہوتا ہے، کسی غریب بچی کی شادی کے لیے اہلِ خیر اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں، کسی طالب علم کی فیس کے لیے ڈونر رقم بھیجتا ہے، کسی ملک کی مظلوم عوام کے عطیات اکٹھے ہوتے ہیں ان کی نظریں اچانک چمک اٹھتی ہیں۔
یہی ان کا شکار ہے!
بیمار کے علاج کا فنڈ
سوچیے، ایک غریب آدمی اپنی بیمار ماں، باپ، بیوی یا بچے کو لے کر کسی دینی مرکز کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔
وہ سمجھتا ہے کہ یہاں سے اسے مدد ملے گی۔
کسی صاحبِ خیر نے اس مقصد کے لیے رقم دی ہے۔
کسی نے اپنے مال میں سے حصہ نکالا ہے۔
کسی نے شاید اپنے بچوں کی خواہش قربان کرکے چند ہزار روپے بھیجے ہیں کہ کوئی مجبور انسان اسپتال تک پہنچ سکے۔
لیکن اگر اس رقم تک پہنچنے سے پہلے ہی کئی ہاتھ اس پر قابض ہوجائیں، فائلیں گردش کرتی رہیں، سفارشیں تلاش کی جائیں، اور آخرکار ضرورت مند کو چند سکوں کے یا بوسیدہ نوٹوں کے ساتھ واپس کردیا جائے تو سوال صرف مالی بدعنوانی کا نہیں رہتا۔
یہاں بڑی خاموشی سے ایک بیمار انسان کی امید کا قتل ہو جاتا ہےاور کسی کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔
مگرمچھ صرف جسم نہیں نگلتا، کبھی کبھی وہ امید نگلتا ہے۔
ایک صاحبِ خیر بیرونِ ملک بیٹھا سوچتا ہے کہ اس کی کمائی کا ایک حصہ کسی محتاج کے کام آجائے۔
وہ اعتماد کرتا ہے۔
وہ اپنا مال بھیجتا ہے۔
اسے آخر تک معلوم نہیں ہوتا ہے کہ رقم کس الماری میں گئی، پھر وہاں سے کس اکاؤنٹ میں پہنچی، کس کے ہاتھ سے گزری اور کس کے گھر تک پہنچ گئی۔
اس کے لیے یہ صدقہ ہے، انفاق ہے، خدمت ہے۔
مگر کسی کے لیے یہی رقم موقع ہے۔یہاں خبیث مگرمچھ پانی سے باہر نہیں آ تا۔وہ پانی میں ہی رہتا ہے، صرف اتنا کرتا ہے کہ شکار کو اپنے قریب آنے دیتا ہے اور پھر ایک دم سے جھپٹ کر قلابازیاں کھاتا ہوا گہرے پانی میں غائب
اس سے زیادہ دل چیر دینے والا منظر کیا ہوگا کہ ایک غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے مدد مانگے؟
کسی مخیر شخص نے جہیز یا شادی کے ضروری اخراجات کے لیے رقم دی ہو۔
باپ کی آنکھوں میں آنسو ہوں۔
بیٹی کی زندگی کا ایک نیا مرحلہ سامنے ہو۔
اور اس موقع پر بھی اگر کسی کی ہوس جاگ جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہاں صرف رقم نہیں لوٹی گئی، ایک باپ کی عزت، ایک بیٹی کی خوشی اور ایک گھر کی دعا لوٹی گئی ہے۔
ایسے لوگوں سے پوچھنا چاہیے:
تم نے صرف پیسے لیے ہیں یا اس باپ کی آہ بھی اپنے نام لکھی ہے؟
وہ بچہ جس کے ہاتھ میں کتاب ہے، مگر جیب خالی ہے۔
جو مدرسے یا اسکول میں پڑھنا چاہتا ہے، یونیورسٹی جانا چاہتا ہے، کسی دینی یا عصری علم کو حاصل کرنا چاہتا ہے، مگر گھر کے حالات اجازت نہیں دیتے۔
کسی ڈونر نے کہا:
"اس بچے کی فیس میری طرف سے۔"
رقم پہنچ گئی۔
لیکن اگر اس رقم کا راستہ طالب علم تک پہنچنے سے پہلے ہی کسی اور منزل کی طرف مڑ جائے تو یاد رکھنا چاہیے:
تم نے ایک طالب علم کی فیس نہیں کھائی، تم نے ایک ممکنہ مستقبل کھایا ہے۔
مگرمچھ کی بھوک صرف ایک لقمہ نہیں کھاتی۔
کبھی وہ ایک نسل نگل جاتی ہے۔
وقف کی زمینیں اور اداروں کی جائیدادیں
یہ کھیل صرف چند ہزار یا چند لاکھ روپے تک محدود نہیں۔
کہیں وقف کی زمین ہے۔
کہیں مدرسے کی عمارت ہے۔
کہیں امام بارگاہ کی دکانیں ہیں۔
کہیں مسجد سے متصل کمرشل پراپرٹی ہے۔
کہیں کسی دینی شخصیت کے نام پر قائم ٹرسٹ ہے۔
یہ سب دراصل قوم کی امانتیں ہیں۔
لیکن جب امانت دار خود مالک بن بیٹھے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے:
وقف کس کا تھا؟
ادارہ کس کے لیے تھا؟
زمین کس کی تھی اس نے کیوں وقف کی اور اب کیا ہے
اور فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
مگرمچھ تالاب کا مالک نہیں ہوتا، مگر کچھ عرصے بعد تالاب پر اس کا ایسا قبضہ ہوجاتا ہے کہ دوسرے جانور پانی پینے سے بھی خوف کھانے لگتے ہیں۔
دینی ادارے ایسے ہی تالاب کی طرح ہیں جن کے پانی پر بعض
مگرمچھوں نے مالکانہ حق جتانا شروع کردیا ہے۔
سب سے خطرناک مگرمچھ
لیکن ان سب سے خطرناک مگرمچھ وہ ہیں جو صرف مال نہیں نگلتے۔
وہ سوال نگلتے ہیں۔
احتساب نگلتے ہیں۔
تنقید نگلتے ہیں۔
وہ نئی نسل کی امید نگلتے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ کوئی حساب نہ مانگے۔
کوئی پوچھے نہیں کہ عطیات کہاں خرچ ہوئے؟
وقف کی آمدنی کہاں گئی؟
ضرورت مندوں کے لیے آنے والی رقم کتنے لوگوں تک پہنچی؟
کتنی بچیوں کی شادی ہوئی؟
کتنے مریضوں کا علاج ہوا؟
کتنے طلبہ کی فیس ادا ہوئی؟
اور کتنی رقم انتظامی اخراجات، مراعات، غیر ضروری مصارف یا نجی مفادات کی نذر ہوگئی؟
جن اداروں میں حساب مانگنا جرم سمجھا جائے، وہاں احتساب نہیں بلکہ تقدس کے پردے میں بے احتیاطی پنپنے لگتی ہے۔
اور جہاں ہر سوال کرنے والے کو دشمن، باغی یا گستاخ قرار دے دیا جائے، وہاں مگرمچھوں کے لیے پانی مزید گہرا ہوجاتا ہے۔
لباس تقدس کی ضمانت نہیں
ہمیں ایک بنیادی حقیقت سمجھنی ہوگی:
دینی لباس، دینی عہدہ اور دینی ادارے سے وابستگی کسی انسان کو خود بخود امانت دار نہیں بناتی۔امانت داری کردار سے ثابت ہوتی ہے۔تقویٰ حساب سے فرار کا نام نہیں بلکہ مستحکم حساب کتاب کے بے نقص سسٹم کا نام ہے
خدمت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو سوال سے بالاتر کردیا جائے۔
اور تقدس کا مطلب یہ نہیں کہ مالی معاملات میں شفافیت ختم کردی جائے۔
اگر ایک عام شخص سے دکان کا حساب مانگا جاسکتا ہے، کمپنی کا آڈٹ ہوسکتا ہے، سرکاری ادارے سے حساب طلب کیا جاسکتا ہے، تو پھر دین کے نام پر جمع ہونے والی امانتیں حساب سے بالاتر کیوں؟
مگرمچھوں کا مسئلہ اور تالاب کی خاموشی
مگرمچھ اکیلا اتنا خطرناک نہیں ہوتا جتنا خاموش تالاب اسے بنا دیتا ہے۔
جب لوگ دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہیں،
جب ذمہ دار جانتے ہوئے بھی مصلحت اختیار کریں،
جب اہلِ علم حقیقت جان کر بھی زبان بند رکھیں،
جب عطیہ دینے والے حساب پوچھنا چھوڑ دیں،
جب وقف کی نگرانی کرنے والے اپنے فرائض بھول جائیں،
جب اداروں میں شفافیت کے بجائے شخصیات کا تقدس معیار بن جائے—
تو پھر مگرمچھ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
اور ایک دن وہ صرف ایک لقمہ نہیں نگلتا۔
قوم کا مستقبل نگلنے کے درپے رہتا ہے لہذا اب تالابوں کی صفائی ضروری ہےدینی مراکز کو مگرمچھوں سے پاک کرنے کا مطلب دینی مراکز کو بدنام کرنا نہیں۔
بلکہ اس کے برعکس، یہ دینی مراکز کی حرمت بچانے کی کوشش ہے۔
مسجد مقدس ہے۔
مدرسہ مقدس مقصد رکھتا ہے۔
وقف امانت ہے۔
عطیہ اعتماد ہے۔
خمس و زکوٰۃ، صدقات اور خیرات محتاجوں کا حق ہیں۔
اور ان سب کو ذاتی مفاد کا ذریعہ بنانا صرف مالی مسئلہ نہیں، اخلاقی اور دینی خیانت کا مسئلہ ہے۔
اس لیے ضرورت ہے کہ ہر دینی ادارے میں واضح حساب ہو۔
آمدنی اور اخراجات کی دستاویزات محفوظ ہوں۔
وقف کی املاک کا ریکارڈ شفاف ہو۔عطیات کے مقصد کی پابندی ہو۔
مستحقین تک پہنچنے والی رقم کا قابلِ تصدیق نظام ہو۔
اور سب سے بڑھ کر—
کسی شخص کو ادارے سے بڑا نہ ہونے دیا جائے۔
کیونکہ جب ادارہ شخص سے چھوٹا ہوجاتا ہے تو پھر امانت، شخصیت کے تابع ہوجاتی ہے۔
اور جہاں امانت شخصیت کے تابع ہوجائے، وہاں مگرمچھوں کے لیے تالاب تیار ہوجاتا ہے۔
خیر جانے دیں بہت سے لوگ اس تحریر کو اپنے اوپر لے جا کر اپنی بھڑاس نکالنا شروع کر دیں گے جب کہ تحریر کسی فرد خاص کو مد نظر رکھ کر نہیں لکھی گئی ہاں پانی نشیب میں ضرور مرتا ہے۔ بات ایک بچے کے مگر مچھ کے ذریعہ نگل جانے سے شروع ہوئی تھی جسے مگر مچھ نے نگل لیا یہاں اچھی بات یہ ہوئی کہ اس بچے کو نگلنے والے مگرمچھ کو پکڑ لیا گیا اگرچہ بچہ زندہ نہ رہ سکا لیکن دوسرے بچوں کو بچا لیا گیا یہ بہت اہم ہے ۔
افسوس ہمارے معاشرے کے مگرمچھ ابھی آزاد ہیں کسی کو انہیں پکڑنے کی جرات نہیں
وہ کبھی کسی دفتر کے کمرے میں بیٹھے ہیں۔
کبھی کسی مدرسے کی انتظامیہ میں۔
کبھی کسی وقف کی زمین کے آس پاس۔
کبھی کسی مسجد میں
کبھی کسی خیراتی فنڈ کے درمیان۔
کبھی کسی دینی ادارے کے مالی شعبے میں۔
اور کبھی کسی مقدس نام کے سائے میں۔
ان کے جبڑے اتنے مضبوط ہیں کہ
کسی بیمار کی دوا ر وک سکتے ہیں ہے۔
کسی غریب بچی کی شادی کا خواب نگل سکتے ہیں
ان کے جبڑوں کے درمیان بظاہر شاید پان کے علاوہ کچھ اور نہ دکھے انکی ناک سے سگریٹ کے دھویں کے علاوہ شاید کچھ اور نہ نکلے لیکن یہ کسی طالب علم کا مستقبل پان کے ساتھ چبا سکتے ہیں یہ کسی کا "کل" دھواں دھواں کر سکتے ہیں۔
اس لیے اب صرف مگرمچھوں کو پہچاننا کافی نہیں؛ تالاب کی نگرانی بھی ضروری ہے۔
کیونکہ دین کے مراکز کسی فرد کی جاگیر نہیں۔
یہ قوم کی امانت ہیں۔
اور امانت کی حفاظت صرف عبادت نہیں،
ذمہ داری بھی ہے۔
اگر کسی دینی مرکز میں مگرمچھ چھپے بیٹھے ہیں تو انہیں تقدس کے پردے میں چھپانے کے بجائے، قانون، اخلاق، شفافیت اور اجتماعی احتساب کی روشنی میں سامنے لانا ہوگا۔
تاکہ مسجد میں آنے والا غریب خوفزدہ نہ ہو۔
مدرسے کا طالب علم مایوس نہ ہو۔
بیمار علاج سے محروم نہ ہو۔
غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے در در نہ پھرے۔
اور ڈونر جب اپنی محنت کی کمائی کسی دینی ادارے کو دے تو اسے یہ اطمینان ہو کہ اس کا ایک ایک روپیہ واقعی اللہ کے بندوں تک پہنچ رہا ہے۔
لیکن یہ سب اسی وقت ہو سکتا ہے جب عافیت طلبی سے نکل کر ہم سب اجتماعی جرات کا مظاہرہ کریں اور ڈر کر ہٹنے کے بجائے ہمت سے ڈٹے رہیں تاکہ قوم کا مستقبل نگلے جانے سے محفوظ ہو سکے۔










آپ کا تبصرہ